ممبئی ،7؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) منشیات کیخلاف کارروائی کرنے والے نارکوٹکس کنٹرول بیورور(این سی بی) کے ذریعے بالی ووڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے سمیت دیگر افراد کی گرفتاری پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے این سی پی کے قومی ترجمان اوراقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے اس گرفتاری کوایک ڈراما قرار دیا ہے۔ انہوں نے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این سی بی کی یہ کارروائی مہاراشٹر حکومت ، ریاست مہاراشٹر اوربالی ووڈکو بدنام کرنے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ اس کے ثبوت میں انہوں نے کئی ویڈیوکلپ اورفوٹوس پرمبنی شواہد بھی پیش کئے۔
نواب ملک نے کہاکہ این سی بی نے3؍اکتوبر کو ممبئی گوا کروزپر چھاپہ مارکر کچھ لوگوں کو گرفتار کیا تھا جن میں بالی ووڈ اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان اورکئی دیگرلوگ شامل تھے۔ لیکن آرین خان کو گرفتارکرتے ہوئے جس شخص کی تصویر وائرل ہوئی ہے اس شخص کا نام کے پی گوسوامی ہے جس کے بارے میں خود این سی بی (دہلی) نے وضاحت کی ہے کہ ایجنسی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی کے ساتھ ارباز مرچنٹ کو گرفتار کرکے این سی بی کے دفتر میں لے جانے والے شخص کا نام منیش بھانوشالی ہے، اس کا بھی این سی بی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے مطابق وہ بی جے پی کا نائب صدر ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان دونوں کا تعلق این سی بی سے نہیں ہے تو یہ کس قانون اوراختیار کے تحت ان ہائی پروفائل لوگوں کے اطراف پائے گئے اور گرفتاری انجام دی ۔ اس کا جواب این سی بی کو دینا چاہئے۔نواب ملک نے کہاکہ3؍ اکتوبر کی کارروائی کے بعد این سی بی نے خود کرائم رپورٹرز کو کارروائی کی ویڈیو دی تھی جس سے پوری صورتحال واضح ہو تی ہے۔ویڈیو میں واضح طور پر مذکورہ بالا دونوں افراد گرفتاری کی کارروائی کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔کے پی گوسوامی نے گرفتاری کے بعد آرین خان کے ساتھ سیلفی بھی لی تھی جو وائرل ہوئی تھی۔ اس کے بعد این سی بی نے ٹویٹ کیا کہ کے پی گوسوامی ان کا کوئی اہلکار نہیں ہے۔ نواب ملک کے مطابق کے پی گوسوامی پر پونے میں فریب دہی کا ایک مقدمہ درج ہے۔اپنے فیس بک پیج پر وہ خود کو پرائیویٹ جاسوس بتاتاہے۔ اس کے علاوہ وہ اپنے ہاتھوں میں ریوالور لے کر تصویریں پوسٹ کرتا ہے اور خود کوکوالالمپور(ملائیشیا)کا رہنے والا بتاتا ہے۔
نواب ملک نے مطالبہ کیا کہ کے پی گوسوامی کے این سی بی سے تعلق کی نوعیت سامنے آنی چاہئے کہ جب وہ این سی بی کا کوئی اہلکار نہیں ہے جس کی وضاحت خود این سی بی نے کی ہے تو پھر وہ اس کارروائی میں کیسے شامل ہوا؟ اسی طرح ارباز مرچنٹ کو گرفتار کرنے والا منیش بھانوشالی اپنے فیس بک پر خود کو بی جے پی کا نائب صدر بتاتا ہے۔ اس نےاپنے فیس بک وال پر وزیراعظم مودی، بی جے پی کے صدرجے پی نڈا، مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ، سابق وزیراعلیٰ دیوندرفرنویس، مرکزی وزیرریلوے راؤ صاحب دانوے اور مہاراشٹر بی جے پی ایم ایل اے آشیش شیلار وغیرہ کے ساتھ تصویر یں پوسٹ کررکھی ہیں۔ اس شخص کا این سی بی سے کیا تعلق ہے؟ این سی بی کو اس کی بھی وضاحت کرنی چاہئے۔نواب ملک نے عویٰ کیا کہ فی الوقت کے پی گوسوامی اورمنیش بھانوشالی کا فیس بک پیج لاک ہے لیکن بھانوشالی کے پورے حقائق ہم نے تلاش کرلئے ہیں۔این سی پی کے قومی ترجمان نے مزید کہا کہ بھانوشالی نے21؍ اور22؍ ستمبرکے درمیان گجرات میں وہاں کے کچھ وزراء سے ملاقات کی تھی جبکہ21؍ستمبر کو اڈانی پورٹ پر افغانستان سے لائی ہوئی کروڑوں رو پے کی منشیات برآمد ہوئی تھی۔ اس کے بعد28؍ ستمبر کو بھانوشالی ایک بار پھر گجرات جاکر وہاں کے منترالیہ میں گجرات کے کابینی وزیر کریٹ سنگھ رانا سے ملا۔اس کے بعد 3؍اکتوبر کو ممبئی میں این سی بی کی کارروائی میں بھانوشالی کیسے شامل ہوا؟اس کا گجرات میں اڈانی پورٹ پر برآمد ہوئی منشیات سے کیا تعلق ہے؟ نیز وہ بی جے پی کا نائب صدر کیسے ہے؟ ان سوالوں کے جواب این سی بی اوربی جے پی دونوں کو دینے چاہئیں۔ اس کے علاوہ سمندری جہاز پرمنشیات کی برآمدگی کا جو دعویٰ کیا جارہا ہے اس کی تصویر بھی این سی بی ممبئی کے ریجنل دفتر میں لی گئی ہے۔این ڈی پی ایس قانون کے مطابق منشیات کی برآمدگی کی جگہ پر ہی اس کا پنچ نامہ ہونا چاہئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سمندری جہاز پر منشیات کی برآمدگی کے بعد ان کی تصویر یا ویڈیو کیوں نہیں بنائی گئیں؟